شہر کا سب سے امیر تاجر اپنی بےپناہ دولت کی وجہ سے دور دور تک مشہور تھا۔ اس کے خزانے سونے، چاندی، ہیروں، جواہرات اور نایاب نوادرات سے بھرے ہوئے تھے۔ دنیا کے کئی بادشاہ اور رئیس بھی اس کی دولت پر رشک کرتے تھے، مگر اس کے باوجود اس کے چہرے پر ایک عجیب سی اداسی رہتی تھی۔
عمر کے آخری حصے میں پہنچ کر اسے پہلی بار احساس ہوا کہ دولت کے انبار جمع کرتے کرتے اس نے زندگی کی بہت سی اصل نعمتیں کھو دی ہیں۔ایک صبح اس نے شہر کے سب سے بڑے بازار میں ایک غیر معمولی اعلان کروا دیا۔
"میں دنیا کی سب سے قیمتی چیز خریدنا چاہتا ہوں۔ قیمت کی کوئی حد نہیں۔ جو شخص وہ چیز میرے پاس لے آئے گا، میں اسے منہ مانگا انعام دوں گا۔"
یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے شہر میں پھیل گئی۔
اگلے ہی دن بازار لوگوں سے بھر گیا۔ کوئی یاقوت اور زمرد لے آیا، کوئی نایاب موتی، کوئی سونے سے مزین تاج، کوئی صدیوں پرانی تلوار، تو کوئی شاہی محلوں کے قیمتی قالین۔ ہر شخص کو یقین تھا کہ اس کے پاس موجود خزانہ ہی دنیا کی سب سے قیمتی دولت ہے۔
تاجر ہر چیز کو نہایت غور سے دیکھتا، مسکراتا اور پھر آہستہ سے سر ہلا دیتا۔
"یہ بہت قیمتی ہے... مگر اسے دولت سے خریدا جا سکتا ہے۔ میں ایسی چیز چاہتا ہوں جو بازار میں نہ بکتی ہو۔"
سورج غروب ہونے لگا۔ بازار تقریباً خالی ہو چکا تھا۔ لوگ مایوس ہو کر واپس جا رہے تھے کہ اسی لمحے ایک نحیف سا بوڑھا کسان، سادہ سے کپڑوں میں، ہاتھ میں مٹی کا ایک چھوٹا سا برتن لیے آہستہ آہستہ آگے بڑھا۔
لوگ اسے دیکھ کر ہنسنے لگے۔
"یہ فقیر دنیا کی سب سے قیمتی چیز لایا ہے؟"
تاجر نے احترام سے اسے اپنے سامنے بٹھایا اور پوچھا، "بابا، اس برتن میں کیا ہے؟"
بوڑھے نے برتن کو دونوں ہاتھوں سے سینے سے لگایا اور دھیمی آواز میں بولا، "اس میں کوئی سونا نہیں، کوئی ہیرا نہیں، نہ کوئی خزانہ۔ اس میں میری بیٹی کی خوشی کے آنسو ہیں۔"
پورا بازار خاموش ہو گیا۔
تاجر نے حیرت سے پوچھا، "یہ کیسے؟"
بوڑھے نے گہرا سانس لیا اور بولا، "میں ایک غریب کسان تھا۔ کئی کئی دن ایسا ہوتا کہ خود بھوکا سو جاتا، مگر اپنی بیٹی کی تعلیم کے لیے پیسے بچاتا۔ لوگ کہتے تھے کہ لڑکیوں کو پڑھانے کا کیا فائدہ، مگر میں نے ہمت نہ ہاری۔ برسوں کی محنت کے بعد جب وہ اپنی تعلیم مکمل کر کے استاد بنی، تو اس نے خوشی سے مجھے گلے لگا لیا۔ اس کی آنکھوں سے جو آنسو نکلے، وہ میری زندگی کی سب سے بڑی کمائی تھے۔ میں نے اسی دن سمجھ لیا کہ دنیا کی سب سے قیمتی دولت انسان کے دل میں ہوتی ہے، خزانے میں نہیں۔"
یہ کہتے ہوئے بوڑھے کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔
بازار میں مکمل خاموشی چھا گئی۔
امیر تاجر کی نظریں جھک گئیں۔ اس کے ذہن میں اپنی پوری زندگی ایک فلم کی طرح گزرنے لگی۔ اسے یاد آیا کہ اس نے دولت تو بےشمار کمائی، مگر اپنے بچوں کے ساتھ وقت نہ گزار سکا۔ ان کی خوشیوں، ان کی کامیابیوں اور ان کے آنسوؤں کی قدر کبھی نہ کر سکا۔ آج اس کے خزانے بھرے ہوئے تھے، مگر دل خالی تھا۔
اس کی آنکھوں سے بےاختیار آنسو بہنے لگے۔
وہ اپنی جگہ سے اٹھا، بوڑھے کے قریب آیا اور احترام سے اس کے ہاتھ چوم لیے۔
پھر بلند آواز میں بولا، "آج میری تلاش ختم ہو گئی۔ دنیا کی سب سے قیمتی چیز نہ ہیرے ہیں، نہ سونا، نہ جواہرات۔ دنیا کی سب سے قیمتی دولت وہ محبت ہے جو قربانی سے جنم لیتی ہے، وہ آنسو ہیں جو خلوص سے بہتے ہیں، اور وہ رشتے ہیں جو کسی قیمت پر نہیں خریدے جا سکتے۔"
اسی دن اس نے اپنے کاروبار کی ذمہ داریاں اپنے بیٹوں کے سپرد کر دیں اور اپنی باقی زندگی اپنے بچوں، پوتوں اور خاندان کے ساتھ گزارنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ اسے آخرکار معلوم ہو چکا تھا کہ وقت اور محبت ہی وہ خزانے ہیں جو ایک بار کھو جائیں تو دنیا کی ساری دولت بھی انہیں واپس نہیں لا سکتی۔
اخلاقی سبق: دنیا کی سب سے قیمتی چیزیں بازاروں میں نہیں ملتیں۔ محبت، قربانی، خلوص، والدین کی دعائیں اور اپنے عزیزوں کے ساتھ گزارا ہوا وقت وہ دولت ہے جسے نہ خریدا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی قیمت لگائی جا سکتی ہے۔
No comments:
Post a Comment