حضرت شیخ سعدیؒ بیان کرتےہیں کہ ایران کے ایک شہر اردبیل کا ایک پہلوان فنون سپہ گری میں اس قدر ماہر اور شہ زور تھا کہ لوہے کے بیلچے کو تیر سے چھید دیا کرتا تھا۔ اس پہلوان کے مقابلے میں آنے کی جرات کسی کو نہ تھی۔
محمود غزنوی آپ نے اعلان کیا کہ آج شہر میں سب لوگوں کو اجازت ہے کہ جو بھی جس چیز کو ہاتھ لگائے گا اس کی ہو جائے گی۔۔۔ پھر وہ ہی ہوا سب کوئی سونے کے پیچھے کوئی چاندی کے پیچھے ۔۔۔وغیرہ۔۔
حضرت شیخ سعدیؒ بیان کرتےہیں کہ ایران کے ایک شہر اردبیل کا ایک پہلوان فنون سپہ گری میں اس قدر ماہر اور شہ زور تھا کہ لوہے کے بیلچے کو تیر سے چھید دیا کرتا تھا۔ اس پہلوان کے مقابلے میں آنے کی جرات کسی کو نہ تھی۔ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ ایسے شخص نے اُسےمقابلے کی دعوت دی جو نمدہ پہنے ہوئے تھا۔
میں کل فرنیچر والی دکان پر گیا کچھ صوفہ اور بیڈ سیٹ پسند آئے تو سوچا تصویر لے لیتا ھُوں گھر والوں کو دِکھانے کے واسطے تصویر لینے لگا تو دکاندار غصہ ھو گیا اور منع کر دیا، وہاں سے نکلا اور جس بھی فرنیچر والے کے پاس گیا
" یہ ایک سعودی طالبعلم کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ ہے جو حصول تعلیم کے لیے برطانیہ میں مقیم تھا
وہ طالبعلم بیان کرتا ہے کہ مجھے ایک ایسی انگریز فیملی کے ساتھ ایک کمرہ کرائے پر لے کر رہنے کا اتفاق ہوا جو ایک میاں بیوی اور ایک چھوٹے بچے پر مشتمل تھی۔
ایک دن وہ دونوں میاں بیوی کسی کام سے باہر جا رہے تھے تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ اگر آپ گھر پر ہی ہیں تو ہم اپنے بچے کو کچھ وقت کے لیے آپ کے پاس چھوڑ دیں ؟