Sunday, September 13, 2020

لوہے اور ہیرے میں فرق

لڑکیوں پرپابندیاں لگانے کی وجہ

ایک بار ایک لڑکی نے مولاناصاحب سے کہاکہ ایک بات پوچھوں؟؟😐😐

مولانا صاحب نےفرمایا؛ بولو بیٹی کیا بات ھے؟؟😊😊

لڑکی نے کہا ہمارے سماج میں لڑکوں کو ہر طرح کی آزادی ہوتی ہے !! وہ کچھ بھی کریں؛ کہیں بھی جائیں، اس پر کوئی خاص روک ٹوک نہیں ہوتی!👍👍

اس کے بر عکس لڑکیوں کو بات بات پر روکا جاتا ہے۔ یہ مت کرو! یہاں مت جاو! گھر جلدی آجاؤ !!..٠٠😐😐
یہ سن کر مولانا صاحب مسکرائے اور فرمایا !!..

بیٹی آپ نے کبھی لوہے کی دکان کے باہر لوہے کے گودام میں لوہے کی چیزیں پڑیں دیکھیں ہیں ؟ یہ گودام میں سردی ٠گرمی ٠ برسات ٠رات٠ دن٠ اسی طرح پڑی رہتی ہیں ٠٠ اس کے باوجود ان کا کچھ نہیں بگڑتا اور ان کی قیمت پر بھی کوئی اثر نہیں پڑتا٠٠😇😇

لڑکوں کی کچھ اس طرح کی حیثیت ہے سماج میں!👍👍

اب آپ چلو ایک سنار کی دکان میں۔ ایک بڑی تجوری اس میں ایک چھوٹی تجوری اس میں رکھی چھوٹی سُندر سی ڈبی میں ریشم پر نزاکت سے رکھا چمکتا ہیرا٠۔۔☺☺
کیو نکہ جوہری جانتا ہے کی اگر ہیرے میں ذرا بھی خراش آ گئی تو اس کی کوئی قیمت نہیں رہے گی۔۔😑😑

اسلام میں بیٹیوں کی اہمیت بھی کچھ اسی طرح کی ھے🌹🌹🌹
۔ پورے گھر کو روشن کرتی جھلملاتے ہیرے کی طرح ذرا سی خراش سے اس کے اور اس کے گھر والوں کے پاس کچھ نہیں بچتا 😓😓

بس یہی فرق ہے لڑکیوں اور لڑکوں میں ٠😊

پوری مجلس میں خاموشی چھا گئ اس بیٹی کے ساتھ پوری مجلس کی آنکھوں میں چھائی نمی صاف صاف بتا رہی تھی لوہے اور ہیرے میں فرق ٠٠ 😇😇😇

*آپ سے التجا ہے کہ یہ پیغام اپنی بیٹیوں بہنوں کو ضرور سنائیں، دکھائیں اور پڑھائیں*👍👍👍

*جزاک اللہ خیرا کثیرا

مسلم تاجروں کا اخلاق اور محبت

یہ قدیم مسلم تاجروں کی روایت تھی کہ وہ صبح دکان کھولنے کے ساتھ ایک چھوٹی سی کرسی دکان کے باہر رکھتے تھے جوں ہی پہلا گاہک آتا دکاندار کرسی اس جگہ سے اٹھاتا اور دکان کے اندر رکھ دیتا تھا.

لیکن جب دوسرا گاہک آتا دکاندار اپنی دکان سے باہر نکل کر بازار پر اک نظر ڈالتا جس دکان کے باہر کرسی پڑی ہوتی وہ گاہک سے کہتا کہ تمہاری ضرورت کی چیز اس دکان سے ملے 
گی،میں صبح کا آغاز کرچکا ہوں.

کرسی کا دکان کے باہر رکھنا اس بات کی نشانی ہوتی تھی کہ ابھی تک اس دکاندار نے آغاز نہیں کیا ہے.

یہ مسلم تاجروں کا اخلاق اور محبت تھی نتیجتا ان پر برکتوں کا نزول ہوتا تھا.

عربی سے ترجمہ

سبــــق آمـــوز تحــریــر

ایک دفعہ ایک گھوڑا ایک گہرے کنویں میں جا گرا اور زور زور سے آوازیں نکالنےلگا.

گھوڑے کا مالک کسان تھا جو کنویں کے کنارے پہ کھڑا اسے بچانے کی ترکیبیں سوچ رہا تھا.

جب اسے کوئی طریقہ نہیں سوجھا تو ہار مان کر دل کو تسلی دینے لگا کہ گھوڑا تو اب بوڑھا ہو چکا ہے، وہ اب میرے کام کا بھی نہیں رہا، چلو اسے یوں ہی چھوڑ دیتے ہیں، اور کنویں کو بھی آخر کسی دن بند کرنا ہی پڑے گا، اس لیے اسے بچا کر بھی کوئی خاص فائدہ نہیں.

یہ سوچ کر اس نے اپنے پڑوسیوں کی مدد لی اور کنواں بند کرنا شروع کر دیا.

سب کے ہاتھ میں ایک ایک بیلچہ تھا جس سے وہ مٹی اور کوڑا کرکٹ کنویں میں ڈال رہے تھے گھوڑا اس صورت حال سے بہت پریشان ہوا.

اس نے اور تیز آواز نکالنی شروع کر دی. کچھ ہی لمحے بعد گھوڑا بالکل خاموش سا ہو گیا.

جب کسان نے کنویں میں جھانکا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جب جب گھوڑے کے اوپر مٹی اور کچرا پھینکا جاتا ہے تب تب وہ اسے جھٹک کر اپنے جسم سے نیچے گرا دیتا ہے اور پھر گری ہوئی مٹی پر کھڑا ہو جاتا ہے.

یہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا. کسان اپنے پڑوسیوں کے ساتھ مل کر مٹی اور کچرا پھینکتا رہا اور گھوڑا اسے اپنے بدن سے ہٹا ہٹا کر اوپر آتا گیا، اور دیکھتے ہی دیکھتے کنویں کے اوپر تک پہنچ گیا اور باہر نکل آیا.

یہ منظر دیکھ کر کسان اور اس کے پڑوسی سکتے میں پڑ گئے. ان کی حیرانی قابل دید تھی.
اس غیر متوقع نتیجے پر وہ گھوڑے سے بھی بڑھ کر مجسمہ حیرت بنے ہوئے تھے۔

زندگی میں ہمارے ساتھ بھی ایسے واقعات رونما ہو سکتے ہیں کہ ہمارے اوپر کچرا اچھالا جائے،

ہماری کردار کشی کی جائے،
ہمارے دامن کو داغدار کیا جائے،

ہمیں طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جائے،

لیکن گندگی کے اس گڑھے سے بچنے کا طریقہ یہ نہیں کہ ہم ان غلاظتوں کی تہہ میں دفن ہو کر رہ جائیں،

بلکہ ہمیں بھی ان بے کار کی چیزوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اوپر کی طرف اور آگے کی سمت بڑھتے رہنا چاہیے.

زندگی میں ہمیں جو بھی مشکلات پیش آتی ہیں وہ پتھروں کی طرح ہوتی ہیں مگر یہ ہماری عقل پر منحصر ہے کہ آیا ہم ہار مان کر ان کے نیچے دب جائیں

یا

ان کے اوپر چڑھ کر مشکل کے کنویں سے باہر آنے کی ترکیب کریں...

خاک ڈالنے والے ڈالتے رہیں مگر پرعزم انسان اپنا راستہ کبھی نہیں بدلتا..

کام کا آغاز دائیں طرف سے

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  تم میں ہر شخص کو چاہیئے کہ وہ دائیں ہاتھ سے کھائے، دائیں ہاتھ سے پیئے، دائیں ہاتھ سے لے، دائیں ہاتھ سے دے، اس لیے کہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے، بائیں ہاتھ سے پیتا ہے، بائیں ہاتھ سے دیتا ہے اور بائیں ہاتھ سے لیتا ہے۔
📗«سنــن ابــن ماجہ-3266»

واصف خیال

سوال :  سر! آپ نے فرمایا تھا کہ اگر مسائل کو نظرانداز کر دیا جائے تو مسائل خودبخود حل ہو جاتے ہیں ۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آئی ؟ 

‎جواب : 
‎  آپ کو یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے ناں کہ نوے فیصد آپ کے مسائل ، آپ کے الجھائے ہوئے مسائل ہیں :

‎رات دن گردش میں ہیں سات آسماں 
‎ہو رہے گا کچھ  نہ کچھ  گبھرائیں کیا 

‎یہ دن رات جو چل رہے ہیں ، یہ آپ کے حالات پیدا کرنے کیلئے آئے ہیں ۔ 
‎  یہ گردشِ زماں و مکاں آپ کو مسائل دینے کیلئے آئی ہے اور مسائل حل کرنے کیلئے آئی ہے ۔
‎ آپ تو خود الجھے ہوئے ہیں ، مسائل کے حل کو چھوڑ دو ۔ 
 
‎  جو بات چلنے سے حاصل نہیں ہوتی ، وہ ٹھہرنے سے حاصل ہو جاتی ہے ۔ 
‎  سکون کی تلاش میں آپ ، ایسی منزل پہ پہنچ گئے ہو ، جہاں سکون نام کی کوئی چیز نہیں ہے ۔ 

‎  اب ان منزلوں سے نکلنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ تھوڑا سا خاموش ہو جاؤ  ، ٹھہر جاؤ  ، اس گھڑی کو نکلنے دو ، آپ اپنے موجود عمل سے نجات پا لو ، 
‎ اور اپنے آپ کو ، اپنے موجود الجھاؤ  سے الگ کر لو ۔ 

‎    یہ جو آپ کی پھیلنے کی خواہش ہے اگر یہ آپ کے اندر کوئی دقّت پیدا کر رہی ہے تو سمٹ جاؤ  ، ٹھہر جاؤ  ، اور رک جاؤ ۔ تو آپ کو سکون مل جائے گا  ۔ 

‎  کسی چیز کو ، کبھی دوڑ کے تلاش کیا جاتا ہے ، کبھی پاس جاکے اسے دیکھا جاتا ہے ، اور کبھی ، اپنے پاس بلا کے دیکھا جاتا ہے ۔ 

‎    اب اللہ کے تلاش کرنے والے ، اللہ کے آگے آگے بھاگے جا رہے ہیں ، اور اللہ پیچھے پیچھے ہے ۔ آپ کبھی ٹھہر جاؤ  تو ، وہ خود ہی آ جائے گا ۔

‎  اللہ کیلئے تو زمان و مکاں کچھ نہیں ہیں ، وہ خود ہی آ جائے گا ۔ اس لئے فضل جو ہے اگر تلاش میں نہیں ہے ، تو ٹھہرنے میں ہے ۔
 
‎  فضل کی تلاش بھی فضل ہے ، اور فضل کا انتظار بھی فضل ہے ۔

‎ میں نے آپ کو پہلے بھی بتایا تھا کہ ،  اگر آپ کو تلاش میں فضل دریافت نہیں ہوا ، تو آپ ، انتظار میں فضل لے لو ، اور ٹھہر جاؤ ۔ 

‎    ایک آدمی نے کہا ! " یا اللّٰہ ! ہم تیری تلاش میں گئے ، تجھے یہاں دیکھا ، تجھے وہاں دیکھا ، پتہ نہیں چلا ، پھر ہم نے دیکھنا چھوڑ دیا ، اور آنکھ بند کر لی ۔" 
‎   جب اس نے آنکھ بند کرلی ، تو نظر آنا شروع ہو گیا ۔

‎ ایک کہانی سنو ۔ ایک آدمی کو کسی نے کہا کہ تم اللہ کو نہیں دیکھ سکتے ۔ اس نے کہا میں نے دیکھنا ضرور ہے ۔ 

‎   کہتا ہے پھر اس طرح کرنا کہ تم سونا نہیں کیونکہ پتہ نہیں وہ کس وقت چکر لگا لے ۔ 
‎  وہ بےچارہ اس خیال میں جاگتا رہا جاگتا رہا ۔  آخر انسان تھا ، اس کو اونگھ آگئی اور ، اللہ کا دیدار ہوگیا ۔ 
‎   اٹھا تو رونے لگ گیا ۔ اور پیر صاحب کے پاس گیا کہ آپ نے میرے ساتھ دھوکا کیا اور میری اتنی عمر ضائع کر دی ، اگر مجھے پتہ ہوتا کہ اللہ نے سونے میں ملنا ہے تو میں کاہے کو جاگتا ۔ 
 
‎انہوں نے کہا ، کہ یہ تیرے اتنے جاگنے کا انعام ہے کہ تمہیں سونے میں ملا ۔ 
‎ بات یہ ہے کہ جاگنا بھی فضول نہیں تھا ، یہ جاگنے کا انعام ہی تھا کہ اُسے اللہ مل گیا ۔
  
‎    تو بات یہ ہے کہ جاگنا اس کی تلاش کی Investment  ہے ۔ 

‎  اگر آپ اللہ کیلئے مزدوری کر رہے ہیں ، اور اب اللہ کہتا ہے کہ معاوضہ لے جاؤ ، لیکن یہ کہہ رہا ہے کہ میں کام کرتا ہی جاؤں گا ۔ 

‎    اب آپ کو ٹھہر جانا چاہئے ۔ آپ پہلے بزرگوں کی دعا ہو ، اب اور کیا دعا مانگتے جا رہے ہو ۔۔۔۔۔ 
   
‎   ان دعاؤں کی وصولی آپ لوگ ہو ، اور اب ، وصولی لیتے نہیں ہو ،
‎   اب اور دعائیں کرنے لگ جاتے ہو ۔ تمہارے باپ دادا کی دعا ، تمہارے کام آ رہی ہے  ۔

‎    اگر صبح کا ناشتہ موجود ہو تو پھر ،   وہ آدمی ایمان سے باہر ہے جو ، اور ناشتے کی کوشش کرے ۔

‎  آپ ماڈرن لوگ ہیں لیکن تھوڑا سایہ بھی کر کے دیکھیں ۔
‎جس کو آج کے دن کی مزدوری مل گئی ہے ، وہ آرام کرے ۔
‎  نیند کیلئے ہی تو آپ جاگ رہے تھے ، اب نیند آئی ہے تو پریشان نہ ہونا ۔ 
‎  تمہاری پریشانی سے تمہیں حاصل کچھ نہ ہو گا ۔ ایسا نہ ہو کہ پریشانی کا کرتے کرتے ، جب حاصل ہو جائے تو کھانے والا کوئی نہ ہو ۔
‎   یہ نہ ہو کہ صحت ہی خراب کر لیں ، یہ نہ ہو کہ کھانا پکاتے بھوک ہی ختم ہو جائے ۔
‎  بس ایسی تلاش نہیں کرنی ۔ اب ٹھہرنے کا وقت ہے ۔ اس لئے زیادہ دقّت میں نہ پڑو ۔ اور زیادہ بھاگم دوڑ نہ کرو ۔ آپ کو گھر ہی میں ملے گا : 

  Fools may aimless roam
 Loved and lovers meet at home .

‎  آپ بھاگے چلے جا رہے ہو ۔ اب آرام سے بیٹھو ۔ بات گھر کی گھر میں ہی مل جائے گی ، تمہارے سامنے آ جائے گی ۔ اب بھاگنے کی بات نہیں ہے ۔
 

‎حضرت واصف علی واصف ؒ
‎ ( گفتگو 3 صفحہ : 215 تا 218 )

‎مولانا روم رحمة اللّہ علیہ


‎مولانا روم رحمة اللّہ علیہ  کا واقعہ  ہے کہ آپ بڑے عالمِ  دین تھے اور حدیث و فقہ پڑھاتے تھے ۔ ان کا اپنا مدرسہ تھا ۔ تو ، وہاں پر ایک دن پڑھا رہے تھے کہ ایک درویش آگیا ، وہ ایک مجذوب درویش تھا ۔ اس نے کہا ... " یہ کتابیں کیا ہیں ؟ "  

‎  مولانا روم رح نے کہا ، " تُو درویش آدمی ہے ، تُو کیا جانے کہ یہ کیا ہے ؟  یہ بہت اعلیٰ باتیں ہیں ، نوٹس ہیں ، حدیث ہے ، فقہ ہے ، قرآن ہے ، تفسیر ہے ، اب  میں تمہیں کیا بتاوٴں کہ یہ کیا کچھ ہے ۔ تُو اسے جانے دے  اور تُو  جا ۔ " 

‎مجذوب نے کہا ، اچھا ،  اور  پھر یہ کام کیا کہ ،  ساری کتابیں اٹھا کر تالاب کے پانی میں ڈال دیں  ، جو کہ مسجد کے صحن میں تھا ۔ 

‎     مولانا نے چیخیں لگانی شروع کر دیں کہ میری زندگی بھر کی محنت چلی گئی  ہے ، اور میری ساری زندگی کا حاصل غرق ہو گیا  ۔ 

‎   مولانا روم رح جب بہت زیادہ  روئے ،  تو اس درویش نے  ہاتھ ڈالا ، اور بالکل خشک کتابیں پانی سے نکال لیں  ۔ مولانا حیران رہ گئے اور کہا ، " یہ کیا ہے ؟ "

‎    وہ کہنے لگے ، " تُو کیا جانے کہ یہ کیا ہے  ؟ تُو اپناکاروبار کر ۔"   اتنا کہہ کر وہ آگے چلے گئے ۔ 

‎   کہتے ہیں تین سال مولانا روم اس درویش کے پیچھے پیچھے اور وہ آگے چلتے رہے ۔
‎بڑی مشکل سے مولانا نے انہیں پکڑا کہ خدا کے لئے  مجھے معاف کر دیں .

‎    میں تین سال سے آپ کے پیچھے پھر رہا ہوں کہ مجھے اپنا بنا لو ۔ 

‎  کہنے لگے ۔۔۔۔،
‎    " تُو صرف تین سال سے میرے پیچھے ہے اور میں تو پچیس سال سے تیری تلاش میں ہوں ۔ " 
 
‎  تو بات اتنی ساری ہے کہ ،  جو سچا پیر ہوتا ہے ، وہ سچے مرید کی تلاش میں ہوتا ہے ۔ سچا پیر  بڑی Rare  چیز ہوتا ہے ۔ 

‎    حضرت واصف علی واصف رح
‎   ( گفتگو 3 )

Find yourself

"آج میں پانچ منٹ میں ان لوگوں تک ایک سبق پہنچانا چاہتا ہوں.۔ جو کسی بھی وجہ زندگی میں رک گئے ہیں۔ ہم سب کی زندگی میں ایسے حادثے ہوتے ہیں کہ وہ ہمیں گرا دیتے ہیں توڑ دیتے ہیں۔
"ہمیں لگتا ہے۔ ہم برے ہیں, ہم بد قسمت ہیں, تبھی ہم خود سے نفرت کرنے لگ جاتے ہیں. لوگوں سے نفرت کرنے لگ جاتے ہیں۔ خود کو اپنے کمرے میں, گھر میں قید کر لیتے ہیں۔ ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں۔ زندگی جہنم ہو جاتی ہے۔ موت کی طلب بڑھ جاتی ہے۔"

"مگر آج میں ہر ٹوٹے دل, ہارے ہوئے, تھکے ہوئے سے مخاطب ہوں۔ یہ کچھ پوائنٹ اٹھا لو اور آگے بڑھو۔

"سب سے پہلے
identify yourself.

خود کو پہچانو۔ تم کون ہو, تمہارا مقصد کیا ہے۔ اللہ نے تمہیں کیوں بھیجا ہے۔ زمین پر موجود ایک درخت, ایک پہاڑ, ایک کیڑا بھی بوجھ نہیں ہے۔ تو تم بے مقصد نہیں ہو سکتے۔ خود کی تلاش میں نکلو۔ اپنے دل میں جھانکو۔ سجدوں میں ڈھونڈو۔ رات کے اندھیرے میں ہاتھ اٹھاؤ۔ جب تم میں خود کو جاننے کی طلب ہو گی تو اللہ تمہارے دل میں تمہارا مقصد ڈال دے گا۔" 

"بی یور سیلف "Be yourself

"جو ہو وہی رہو۔ خود کو لوگوں کی دیکھا دیکھی مت بدلو۔
Dont try to be someone else bcz everybody else is already taken
(کسی اور کی طرح بننے کی کوشش مت کرو کیوں کہ وہ پہلے ہی لیا جا چکا ہے)

اور "بی یورسیلف" کا اصول ہے کہ خود کا دوسروں سے موازنہ مت کرو۔ اگر موٹیویشن چاہئیے تو اوپر والوں کو دیکھو اور اگر احساس کم تری ہو رہا ہے۔ تکلیف ہو رہی ہے تو فوراً نیچے والوں سے موازنہ کرو۔ تمہارے پاس گاڑی نہیں ہے تو دیکھو کسی کے پاس سائکل بھی نہیں ہے۔ تمہارے پاس بڑا گھر نہیں ہے توکوئی فٹ پاتھ پر سو رہا ہے۔ تمہارے پاس کھانے کو پزا برگر نہیں ہے کوئی کچرے سے کھا رہا ہے۔ موازنہ کرنا ہی ہے تو ایسے کرو۔"

" ویلیو یورسیلف. " Value yourself

"جب تم خود کو جان جاؤ تو اپنے آپ کو اہمیت دو۔ ویلیو دو۔ خود پر کام کرو۔ خود کو اپ گریڈ کرو۔ نئی سکلز سیکھو فیوچر ڈگری کا نہیں ہنر کا ہے۔ میں کہتی ہوں ہر لڑکا اور لڑکی کو ایک ایسا ہنر ضرور آنا چاہئے کہ جب وہ چاہے اس سے پیسے بنا لے۔ خود کو بہتر سے بہتر بناؤ۔".

"ویلیو دینے کا دوسرا اصول ہے کہ کسی کو بھی اجازت مت دو کہ تم پر انگلی اٹھائے۔ وہ تمہیں تکلیف دے, اپنے گرد ہیلتھی باؤنڈری بنا لو۔ ہر کسی کو یہ باؤنڈری پار مت کرنے دو اور زندگی میں 'نہ' کہنا سیکھو۔ جب کوئی تمہیں تمہاری مرضی کے خلاف یا تمہاری مجبوری کا فائدہ اٹھا کر کوئی کام کروانا چاہتا ہو تو اسے نہ کہہ دو۔ (نہ کہنا سیکھیں, کیونکہ دوسروں کو نہ کہہ کر آپ خود کو ہاں کہہ رہے ہوتے ہیں۔) 

" ایکسیپٹ یور سیلف. "Accept yourself

"تم جیسے ہو خود کو قبول کرو۔ قد چھوٹا ہے, رنگ کالا ہے, بہت لمبے ہو۔ جو بھی ہے جیسے بھی ہے خود کو قبول کرو لوگ تب ہی تمہیں قبول کریں گے۔ جب تم خود کو قبول نہیں کرتے تو لوگ تمہارا مزاق اڑاتے ہیں۔ تم خود کو آج قبول کر لو۔ اس حد تک قبول کر لو کہ جب کوئی تمہاری کسی کمی کا مزاق اڑائے تو اس اعتماد سے سر اٹھائے بیٹھے رہو کہ اسے لگے اس نے کچھ غلط بول دیا۔"

" فار گو یور سیلف "forgive yourself

"ٹھیک ہے تم نے غلط بندہ چن لیا, ٹھیک ہے تم وقت پر صحیح لوگوں کو ٹائم نہیں دے سکے۔ ٹھیک ہے تم میڈیکل میں نہیں جا سکے, ٹھیک ہے تم انجینیئر نہیں بن سکے, ٹھیک ہے تم نے زندگی میں غلط فیصلے لے لیے, ٹھیک ہے تم اچھے لوگوں کو نہیں پہچان سکے۔ اب خود کو معاف کر دو پلیز۔ دوسروں کی معافی کے لیے ضروری ہے کہ تم خود کو معاف کر دو۔ ہر پچھتاوا پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھ آؤ۔ کوئی تمہیں تمہاری تکلیفوں سے نکالنے نہیں آئے گا مگر تم خود اپنا بازو پکڑ کر خود کو باہر کھینچ لاؤ۔ اپنا مسیحا خود بن جاؤ۔" 

" لو یورسیلف. "Love yourself

"لو یور سیلف کا اصول ہے رسپیکٹ یور سیلف۔ کوئی تمہاری تب تک عزت نہیں کرے گا جب تک تم اپنی عزت نہیں کرو گے۔ پیارے بھائیوں ! خود سے محبت کرو۔ دوسروں کے سامنے گرنا نہیں کھڑا ہونا ہے۔
Don't let any body disrespect you

"اور جب تم خود کو عزت دینا, ویلیو دینا سیکھ جاؤ گے تو تم دوسروں کو بھی یہ سب دے سکو گے اور پھر جب تم زند گی میں کسی مقام پر پہنچ جاؤ تو اپنے سے نیچے والوں کا ہاتھ تھام کر اوپر کھینچ لینا۔"

"مجھے عہد چاہئیے کہ ہم ہار نہیں مانیں گے۔ اپنے لیے لڑیں گے۔ اپنی پہچان بنائیں۔ میں ان لوگوں سے انسپائر نہیں ہوتی جو اپنے والد کا پیسہ شو آف کرتے ہیں۔ اگر تم کچھ ہو تو اپنا کمایا دکھاؤ۔ مجھے بتاؤ تمہارا کیا ہے۔ ہم وکٹم نہیں ہیں ہم فائٹر ہیں, ہم لڑیں گے۔ اپنی تکلیفوں سے، اپنے غموں سے۔"

"We all will rise"
"پیارے دوستوں! وی آل ول رائز۔ لیکن ضروری ہے کہ خودی کو پہچان لو. ہم عام نہیں ہیں۔ کوئی بھی عام نہیں ہے۔ سب اپنی اپنی پسند کی فیلڈ میں آگے بڑھ آؤ, کچھ کر جاؤ۔ تمہاری پہچان تمہارا خاندان, تمہارے ماں باپ, بہن بھائ نہیں ہیں۔ اپنی پہچان تم خود ہو.مجھے بتاؤ تم کون ہو۔
Find yourself, find the purpose of yourself
اپنے آپ کو وقت دیجیۓ۔ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ مبارکہ پر کامل یقین رکھیے۔ جزاک اللہ خیرا....

Friday, September 11, 2020

اصلاح نفس

اصلاح نفس کے چار اصول ہیں :
 *1- "مشارطہ"* 
*اپنے نفس کیساتھ"شرط" لگانا کہ"گناہ" نہیں کروں گا-*
 *2- " مراقبہ"* 
*کہ آیا "گناہ" تو نہیں کیا*-
 *3- "محاسبہ"* 
*کہ اپنا حساب کرے کہ کتنے "گناہ"کیے اور کتنی "نیکیاں" کیں-*
 *4- "مواخذه"* 
*کہ"نفس" نے دن میں جو "نافرمانیاں" کیں ہیں اس کو ان کی"سزا" دینا اور وہ سزا یہ ہے کہ اس پر "عبادت" کا بوجھ ڈالے-*
(امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ ۔۔۔ احیاء علوم الدین)
1)*هرصبح نفس کے ساتھ شرط لگائی جائے کہ آج دن بھر گناه نہیں کروں گا...*
2) *دن بھر اپنی نگرانی رهے کہ گناه نہ هوجائے*.
3) *رات کو سونے سے پہلے تنہائی میں دن بھر کا جائزه لیا جائے کہ کیا غلط هوا اور کیا اچھا هوا۔ *
4) *جوغلط هوا اس پر شرمندگی کے ساتھ استغفار کرلے اور جو اچھاکیا اس پر خوب اللہ تعالٰی کا شکر کرے.*.
*یہ حاصل هے اوپر ذکرکئے گے اصلاح نفس کے اصول کا.*
*اللہ تعالٰی هم سب کو اپنی اصلاح کی طرف متوجہ فرمائیں*۔

جی لو اپنی زندگی !!!

یہ عادتیں ہی ہیں جو ہمیں بگاڑتی ہیں، سنوارتی ہیں یا جیتا رکھتی اور مارتی ہیں. یہ عادتیں ہی ہیں جن کے ہاتھوں ہم کم کم جیتے ہیں، یا پھر اپنی زندگی کا نقش چٹانوں پر چھوڑ جاتے ہیں. ہم وہی کچھ بن جاتے ہیں جو ہم مسلسل کرتے ہیں. 

کیا آپ اپنی کسی ایسی عادت کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جو پچھلے دس برس سے آپ کے ساتھ ہے؟ اگر آپ وہاں تک پہنچ چکے ہیں تو آپ کو یہ احساس بھی ہوجائے گا کہ وہ عادت آپ کی زندگی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ چکی ہے، چاہے اسے گاڑی چلانی آتی ہے، یا نہیں. 

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر اپنی عادتوں کے بارے میں کم اور ہمیں جاننے والے ان عادتوں سے زیادہ واقف ہوتے ہیں. اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر عادتوں کے ہاتھوں ہپناٹائز ہوچکے ہوتے ہیں. اور آٹو پر چل رہے ہوتے ہیں. 

عادتوں کی نفسیات پر پچھلے تیس برسوں میں بہت کام ہوا. انہی دنوں سٹیون کووے کی سات عادتوں کی کتاب بہت مقبول ہوئی. اب بات اس سے بہت آگے جاچکی ہے. مثال کے طور نفسیات نے حال ہی میں دریافت کیا کہ اگر آپ کوئی بھی کام، یہ جانتے ہوئے کریں کہ وہ آپ اپنے بجائے کسی اور کے لیے کر رہے ہیں تو وہ کام زیادہ جذبے اور تندہی سے انجام دیا جاتا ہے.

مثال کے طور پر اگر دو لوگ دوڑ رہے ہیں. ایک اپنی جان بنانے کے لیے اور دوسرا اپنی والدہ کے علاج کے لیے فنڈ ریزنگ کرنا چاہتا ہے تو وہ زیادہ انرجی کے ساتھ زیادہ دیر تک بھاگ سکے گا. 

اکثر لوگ شکوہ کرتے ہیں کہ وہ آسمانوں پر کمند ڈالنے کے بجائے چھوٹے موٹے کاموں میں خرچ ہورہے ہیں، جب کہ ان کی منزل آسمانوں میں ہے. ایسے افراد عموماً اپنی عادات کے ہاتھوں ایک اوسط درجے کی زندگی گھسیٹ رہے ہوتے ہیں. ہائی پرفارمر بننے کے لئے اپنی عادتوں کو نتھ ڈالنی پڑتی ہے. 

نفسیات نے بڑا دلچسپ انکشاف کیا ہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کون ہیں، فرق اس سے پڑتا ہے کہ آپ کر کیا رہے ہیں؟ اور کرنے والی عادتیں خود نہیں بنتیں بلکہ ان کے لیے پسینہ بہانا پڑتا ہے. 

دلچسپ امر یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر، اپنے آپ کو اور اپنی زندگی کو ہر روز دوہرا کر خوش رہتے ہیں. اکثر افراد کا بیس سالہ تجربہ ایک جیسی حرکتیں، مسلسل بیس برس تک کرتے رہنا ہوتا ہے. ایسا رویہ کچھ سیکھنے اور اپنی نشوونما کے لیے سم قاتل ہے. آپ نے اپنے دوستوں میں کچھ ایسے لوگ بھی دیکھے ہوں گے جنہوں نے گزشتہ بیس، پچیس برس میں مجال ہے اپنے آپ کو بدلا ہو. یہ رویہ اوسط درجے کی زندگی گزارنے کے لیے تیر بہدف نسخہ ہے. 

عادتوں کے حوالے سے ایک وارننگ دیتا چلوں کہ دنیا میں آپ کی عادتوں کے حوالے کر سب سے بڑا ایکسرے مشین آپ کی اہلیہ یا خاتون دوست کے اندر لگی ہوئی ہوتی ہے. 

عادتوں کے حوالے سے مشہور ہے کہ کوئی بھی کام اگر 21 دن مسلسل کرلیا جائے تو اس کو عادت میں بدلا جاسکتا ہے. ماسٹر ہیبٹ کے لیے تقریباً دس ہزار کے آس پاس گھنٹے درکار ہوتے ہیں. اگر آپ بولنے کو لکھنے کو پڑھنے کو، بھاگنے کو، یا کسی بھی مہارت کو دس ہزار گھنٹے دیں توانائی اس میں ماسٹری پیدا کرسکتے ہیں. 

بدقسمتی سے سیلف ڈسپلن، یعنی اپنے آپ سے الجھنا اور اپنے آپ سے کشتی کرنا، کسی بھی نئی عادت کے جنم لینے کے لیے سب سے بڑی شرط ہے. اکثر لوگ یہیں کھیت رہتے ہیں. مثال کے طور اپنے نیو ائیر ریزولیوشن ذہن میں لے کر آئیں؟ یا جب آپ نے آخری بار اپنا وزن کم کرنے کی نیت کی تھی؟ یا صبح کی سیر کے لئے الارم لگایا تھا؟ یا میٹھے سے پرہیز کا وچن کیا تھا؟ تبھی دنیا میں ٹیلنٹ کا سب سے بڑا مرکز قبرستان کو کہا جاتا ہے جہاں طرح طرح کے تان سین، ارطغرل، ٹییپو سلطان، محمد علی کلے، ساچن ٹنڈولکر اور دیگر ہیرو اپنے دل کے ارمان دل ہی میں لیے سو رہے ہوتے ہیں. 

چلیں ایک اور ٹیسٹ کرلیتے ہیں، آپ اپنی زندگی میں کتنے لوگوں کو جانتے ہیں جو اپنی دھن کے پکے ہیں اور کوئی موسم، گرمی، سردی انہیں ان کے معمول یا فوکس سے باز نہیں رکھ سکتی؟ آپ انہیں بمشکل اپنی دس انگلیوں پر گن پائیں گے. 

ایک اور ٹیسٹ کر لیں، آپ کے خاندان یا دوستوں میں سے کس نے پچھلے پانچ برس میں وزن کم کیا اور پھر پانچ برس سے وہی کمی برقرار بھی رکھی ہے؟ اب صرف ایک ہاتھ کی انگلیاں ہی کافی ہورہیں گی. 

نفسیات کی تازہ ترین تحقیقات کے مطابق کامیاب سی ای او صرف اپنے بزنس میں ہی نہیں بلکہ جسمانی طور پر بھی فٹ ہوتے ہیں اور ان کا انرجی لیول ایتھلیٹس کے مقابلے کا ہوتا ہے. اور یہ لیول صرف ورزش کی عادت پختہ ہونے کا نتیجہ ہوتا ہے. 

تحقیقات کے مطابق دیکھا گیا ہے کہ ہر نئے دن کے آغاز پر اس دن یا دن میں ہونے والے کاموں کے بارے میں اپنی نیت واضح کرنے والے افراد زیادہ کامیاب رہتے ہیں. بس کوئی بھاری بھرکم کام نہیں. صرف یہی سوچنا ہے کہ آپ آج کے دن سے کیا چاہتے ہیں، کوئی بھی کام کیوں کررہے ہیں، اور کسی بھی ملاقات، فون کال یا سرگرمی سے کیا نکالنا چاہتے ہیں. سننے میں تو یہ عام سی بار لگتی ہے، آج سے کرنا شروع کریں تو اثرات معجزاتی ہوسکتے ہیں. 

تحقیقات میں یہ بھی دیکھنا گیا کہ اپنے کام سے پیچھے رہنے والے افراد ای میل لکھنے میں اپنے وقت جا ایک تہائی خرچ کر دیتے ہیں اور ساتھ ہی اپنے آپ کو ڈیڈ لائن دینے میں کمال رکھتے ہیں، تاہم چونکہ نیت میں کھوٹ ہوتا ہے سو صرف بیس فیصد نتائج حاصل ہوتے ہیں اور باقی ڈیڈ لائن مس ہوجاتی ہیں.

عادات کے حوالے سے ایک کمال کا سبق یہ سیکھا ہے کہ اگر دو عادتیں ہوں جن میں ایک عادت سے نشوونما ہوتی ہو، جب کہ دوسری عادت صرف تسلسل لے کر آتی ہو تو تسلسل والی عادت زیادہ بہتر ہے چاہے اس کے فوری نتائج سامنے نظر نہ آتے ہوں. تسلسل سے بڑی طاقت دنیا میں کوئی نہیں. ہم وہی بن جاتے ہیں جو ہم ہر روز کرتے ہیں. غصے والے، نفرت والے، پریشانی میں مہارت رکھے والے، ایکسپرٹ ڈیپریسر، آج کا کام کل پر چھوڑنے والے ان کاموں میں دس ہزار گھنٹوں سے زیادہ وقت صرف کر چکے ہوتے ہیں اور ان کی مہارت اوج کمال تک پہنچی ہوئی ہوتی ہے، اپنے حساب اے آپ انہیں ڈاکٹر کہ سکتے ہیں. 

حوصلہ بھی بڑی عادتوں میں سے ایک ہے. ایک بہت بڑی بدقسمتی، ایک ایسی زندگی گزارنا ہے، جو آپ گزارنا نہیں چاہتے. یہ تو عمر قید ہوئی جس میں آپ اپنے ساتھ ہی بند رہ جائیں. تاہم بہت سے لوگ ایسا حوصلہ نہ ہونے کی وجہ سے اپنی زندگی کا نقش نہیں چھوڑ پاتے. مجھے یاد پڑتا ہے کہ جب میں ایک پینڈو بچے کے طور پر شہر میں آیا تھا تو کلاس میں سوال پوچھنے سے لے کر ہاتھ کھڑا کرنے جیسی چھوٹی چیز پر بھی گلے میں پھندا لگ جایا کرتا تھا. صنف نازک سے بات کرتے وقت تو باقاعدہ تھرتھلی چھوٹ جایا کرتی تھی،خیر ابھی بھی کچھ ایسی ہی کیفیت ہے. تاہم حوصلے کے حوالے سے یہی شئیر کروں گا کہ حوصلہ سیکھا جاسکتا ہے، حتیٰ کہ حوصلے کی اداکاری بھی کرلی جائے تو کام بن جاتا ہے. 

ساری کہانی کا لب لباب یہ ہے لوگ غیر معمولی پیدا نہیں ہوتے، بلکہ اچھوتی عادتیں سیکھ کر اپنے آپ سے بڑے ہوجاتے ہیں. آپ اپنی عادتوں پر نظر رکھیں کہ آپ کی زندگی کا بڑا حصہ ان کے ہاتھوں لکھا جائے گا. جو لوگ جانتے ہیں کہ وہ کیوں زندہ ہیں اور ہر روز واضح نیت کے ساتھ دن کا آغاز کرتے ہیں ان میں سے اکثر موت سے پہلے اپنی کچھ نہ کچھ زندگی جینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں. 

ایک مثبت عادت، دینے یا بانٹنے کی عادت ہے. یہ عادت بہت سی عادتوں کی سردار عادت ہے. سچی بات تو یہی ہے کہ وہی ہمارے کام آتا ہے جو ہم بانٹ چکے ہوتے ہیں. 

عارف انیس 

( نئی کتاب 'صبح بخیر زندگی' سے اقتباس )

بیج کے اپنے دل میں کیا ہے؟

ایک مرضی دہقان کی، کسان کی، باغبان کی ہوتی ہے. 
ایک مرضی زمین کی ہوتی ہے. 
ایک سب سے بڑی مرضی اوپر والے کی ہوتی ہے.
مالی دا کم مشکاں لانا، بھر بھر مشکاں لاوے، ہو! 
مالک دا کم، پھل، پھل لانا، لاوے یا نہ لاوے 

ہر سال کسان ہل چلاتا ہے، کھاد ڈالتا ہے، جڑی بوٹیاں تلف کرتا ہے اور پھر بیج پھینکتا ہے اور پانی دیتا ہے. بہت سے بیج آگ آتے ہیں، کونپلیں سر اٹھاتی ہیں، برگ و بار لاتی ہیں. 

پھر ایک مرضی بیج کی ہوتی ہے. 

جتنا مرضی ہل چل جائے، کھاد ڈل جائے، کھیت سیراب کردیا جائے، اگر بیج کی مرضی نہیں ہے تو وہ اپنی کھال پھاڑ کر زمین کے سینے پر دستک نہیں دے گا. کونپل نہیں پھوٹے گی. بیج اپنے آمد موجود امکانات، پیغامات، کھلیان سب اپنے ساتھ سمیٹ کر لے جائے گا اور سب دیکھتے رہ جائیں گے. 

یہی پرسنل ڈیویلپمنٹ کی سائنس کا دل ہے. تبدیلی کا سارا تحرک بیج کا ذاتی فیصلہ ہے، ورنہ ہل چلانے والے، کھاد ڈالنے والے تھک جائیں گے، اگر بیج اگلے مرحلے میں پہنچنے کے لئے فنا ہونے پر آمادہ نہیں ہوگا! 

سیکھنے کے سلسلے میں ایک قانون واضح ہے کہ طالب جب سیکھنے کے لیے تیار ہو تو استاد کو، مربی کو، مرشد کو حاضر ہونا پڑتا ہے. یاد رکھیں، ترتیب یہی رہے گی. تڑپ استاد یا مرشد کے دل میں نہیں، طالب کے دل میں ہوگی اور سکھانے والا ظاہر ہوجائے گا. اس کے پاس کوئی دوسرا انتخاب ہی نہیں.

آپ اپنی زندگی میں یاد کریں جب کسی بھی سلسلے میں ایسی تڑپ پیدا ہوئی تو جیسے عالم غیب سےکوئی آن ٹپکا. اگلے کے پاس کوئی چوائس نہیں، سوال یہ ہے کہ ہو بیڈ یو وانٹ اٹ! اس کا کم از کم نسخہ یہ ہے کہ طلب میں اتنی شدت ہونی چاہیے جتنی سانس لینے کے لئے ہوتی ہیں. جب دم گھٹتا ہے اور رؤؤاں رؤؤاں اکھٹا ہوکر سر پٹختا ہے. اگر طلب میں شدت نہیں ہے تو لے ادھوری رہ جائے گی. 

مرشد رومی کہتے ہیں، جس کی تجھے تلاش ہے، وہ تیری تلاش میں تھکتا پھر رہا ہے، خواری کرتا پھر رہا ہے. بوہے، باریاں جھانکتا پھر رہا ہے. کہانی یہی ہے کہ اس تلاش میں شدت کتنی ہے؟ وجد کتنا ہے؟ 

چار سال پہلے کی بات ہے جب لندن کے نیشنل جیوگرافک سوسائٹی بھرے ہوئے ہال میں، میں اور دیپک چوپڑا اکٹھے ہوئے تھے اور ہمارے ساتھ ٹونی بیوزان موجود تھا. دونوں ہی میرے مرشد تھے. بیوزان سے میں نے دماغ کو رنگ اور روپ کے زاویے سے پکڑنا دیکھا تھا. بیوزان کی مائنڈ میپنگ تکنیک نے مجھے صرف 45 دن میں سی ایس ایس میں کامیاب ہونے میں مدد دی تھی. 

چوپڑا ایک اور طرح کا جادوگر تھا. وہ گورے کو اسی کی زبان میں مار دیتا تھا، اس کی ساری سائنس، ساری کیمسٹری، فزکس، بائیالوجی اس کے اوپر الٹاتا تھا اور پھر جب سامعین اور ناظرین کی سوچ ہانپ جاتی تھی تو وہ تمام تر علم کے اوپر بیٹھے خدا سے آہستہ آہستہ نقاب سرکاتا تھا. آج بھی دنیا کے ڈھیر ساری رنگوں والی قومیتیں سانس روکے اس کی گفتگو سن رہی تھیں اور وہ انہیں چیلنج کر رہا تھا کہ کائنات %68 ڈارک انرجی سے بنی ہے، %27 ڈارک میٹر ہے اور %5 نارمل میٹر جس کو آج تک ہم سارے سائنسی علوم سے کسی حد تک سمجھ پائے ہیں.

پھر وہ ایک لحظے کے لیے رکا اور کہنے لگا. میرے پاس ایک سوال ڈارک میٹر اور کائنات کی بنت سے بھی زیادہ مشکل ہے. بلکہ دو سوال. اور ان دو سوالات سے مشکل سوال ڈکشنری میں وجود نہیں رکھتے. 

پانچ سو لوگ اب دم سادھے اس کے انتظار میں تھے 

"میں صبح اٹھتا ہوں تو اپنے آپ سے پوچھتا ہوں اور رات کو سوتے وقت بھی. تو کبھی آدھا جواب ملتا ہے، کبھی پاؤ بھر، مگر جتنا بھی مل جائے، کمال کا ہے. سوال بہت سادہ ہیں، شاید جواب مشکل ہیں."

ہال میں سانسوں کی سمفنی تیز ہوگئی. سینکڑوں آنکھیں اس پر جم چکی تھیں. 

"سوال دو ہیں. 
1: تم کون ہو؟ ہو آر یو؟ 
2:تم کیا چاہتے ہو؟ وٹ ڈو یو وانٹ؟ ". 
ہال میں طاری سکتہ بے تحاشا تالیوں سے ٹوٹا. لوگ بے ساختہ اپنی سیٹوں سے کھڑے ہو کر تالیاں پیٹ رہے تھے. 

تم چاہتے کیا ہو؟ کئی بار مجھ سے یہ سوال پوچھا گیا. اور سچی بات تو یہ ہے کہ لگتا ہے کہ اس کا جواب پتہ ہے، پھر آپ لکھتے ہیں، چند لکیریں کھینچے ہیں، فہرست بناتے ہیں، پھر فہرست لمبی ہوجاتی ہے. پھر صفحے ختم ہونے لگتے ہیں. پر چاہت ختم نہیں ہوتی اور فہرست دیکھ کر لگتا ہے کہ مجھے یہ نہیں، شاید کچھ اور چاہیے. 

جب بیج جان لیتا ہے کہ اسے کیا چاہیے تو پھر اسے پھوٹنے سے کوئی نہیں روک سکتا، مگر ایک ہی چیز بیج کے لیے مشکل ہے کہ اسے اپنا "بیج پنا" فنا کرکے اگلی صورت قبول کرنی ہوگی. وہ ایک ہی وقت میں بیج اور کونپل نہیں ہوسکتا. بیج اور درخت نہیں ہوسکتے. بیج اور پھل نہیں ہوسکتا. کیا تم تیار ہو؟ 

جب طالب مانگتا ہے اور اپنی موجودہ حالت کو کھونے کے لیے تیار ہوجاتا ہے تو پھر استاد، مربی یا مرشد کا ظہور ہوجاتا ہے. 

کہ ہم جس کی طلب میں ہوتے ہیں، وہی ہمیں ڈھونڈ رہا ہوتا ہے. 

کس کی طلب میں ہو؟ کیا ڈھونڈ رہے /رہی ہو؟ 
کون ہو تم؟ 
کیا چاہتے /چاہتی ہو؟ 
بیج کے دل میں کیا ہے؟ 

عارف انیس

( زیر تعمیر کتاب "صبح بخیر زندگی" سے اقتباس)