Wednesday, March 17, 2021

خاندان

ﻭﺍﻟﺪ، ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﭘﺘﻨﮓ ﺍﮌﺍﻧﮯ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ. ﺑﯿﭩﺎ ﺑﺎﭖ ﮐﻮ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﭘﺘﻨﮓ ﺍﮌﺍﺗﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ..
ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺑﯿﭩﺎ ﺑﻮﻻ؛
ﭘﺎﭘﺎ .. ﯾﮧ ﺩﮬﺎﮔﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﭘﺘﻨﮓ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎ ﭘﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ، ﮐﯿﺎ ﮨﻢ ﺍﺳﮯ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﮟ!!
ﯾﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ...
ﻭﺍﻟﺪ ﻧﮯ ﺩﮬﺎﮔﮧ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﺎ ..
ﭘﺘﻨﮓ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻟﮩﺮﺍ ﮐﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺍﻧﺠﺎﻥ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮔﺮ ﮔﺌﯽ ...
ﺗﺐ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﻓﻠﺴﻔﮧ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ. ،،،،
ﺑﯿﭩﺎ ..
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﺟﺲ ﺍﻭﻧﭽﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﮨﯿﮟ ..
ﮨﻤﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺟﻦ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺑﻨﺪﮬﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺭﻭﮎ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ۔۔
ﺟﯿﺴﮯ...
ﮔﮭﺮ،
ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ،
ﻧﻈﻢ ﻭ ﺿﺒﻂ،
ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﻭﻏﯿﺮﮦ
ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ...
ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﯽ ﻭﮦ ﺩﮬﺎﮔﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﺱ ﺍﻭﻧﭽﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﺑﻨﺎ ﮐﮯ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ.

ﺍﻥ ﺩﮬﺎﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮨﻢ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺗﻮ ﺍﻭﭘﺮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻭﮨﯽ ﺣﺸﺮ ﮨﻮﮔﺎ ﺟﻮ ﺑﻦ ﺩﮬﺎﮔﮯ ﮐﯽ ﭘﺘﻨﮓ ﮐﺎ ﮨﻮﺍ...
"ﻟﮩﺬﺍ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺑﻠﻨﺪﯾﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﻨﮯ ﺭﮨﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﺩﮬﺎﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺭﺷﺘﮧ ﻣﺖ ﺗﻮﮌﻧﺎ"

"ﺩﮬﺎﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﺘﻨﮓ ﺟﯿﺴﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﮐﮯ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺗﻮﺍﺯﻥ ﺳﮯ ﻣﻠﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﻧﭽﺎﺋﯽ ﮐﻮ ﮨﯽ 'ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺯﻧﺪﮔﯽ' ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﯿﭩﺎ!"

والدین کی قدر کریں یہ ہمیشہ آپ کے پاس نہیں رہیں گے

ماں کی دعا

ماں کی دعا کیسے قبول ہوتی ہے؟ 


وہ گاڑی سے اترا اور بڑی تیزی سے ہوائی اڈے کی جانب لپکا؛ جہاز اڑنے کے لئے تیار تھا اور اسے ایک کانفرنس میں شرکت کرنی تھی جو اسی کے اعزاز میں دی جا رہی تھی۔ جلدی جلدی جہاز میں پہنچ کر اپنی مقررہ نشت پر بیٹھا اور ابھی جہاز اڑنے کے بعد کچھ ہی دور گیا تھا کہ اچانک اعلان ہوا:
آسمانی بجلی کے کڑکنے ، اور تیز اور طوفانی بارش کی وجہ سے انتظامی آلات میں خلل واقع ہو گیا ہے، لہذا جہاز کو نزدیک ترین ہوائی آڈے پر اتارا جا رہا ہے۔
وہ جہاز سے اترتے ہی ہوائی اڈے کے عملے کے منتظم کے پاس پہنچا اور گویا ہوا:
میں ایک جانا مانا عالمی متخصص
ڈاکٹر ہوں، میرے لیے میرا ایک ایک منٹ انسانوں کی جانوں کے برابر قیمت رکھتا ہے اور آپ چاہتے ہیں کہ میں یہاں
14 گھنٹے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھا رہوں؟
کارکنوں میں سے ایک بولا:
جناب ڈاکٹر ذیشان صاحب! اگر آپ کو زیادہ جلدی ہے تو ایک گاڑی کرائے پر لے کر اپنی منزل مقصود تک پہنچ جائیے ، یہاں سے گاڑی میں وہ مقام تین گھنٹے سے زیادہ دور نہیں۔
اس نے ایک گاڑی کرائے پر لی اور اپنی منزل مقصود کی جانب روانہ ہو گیا ، لیکن یہاں بھی قسمت کام نہ آئی، موسلا دھار بارش اور جھکڑ آڑے آئی اور وہ سفر جاری نہ رکھ سکا،
ابھی یہ راہ میں ٹامک ٹوئیاں مارتے پھر رہے تھے کہ احساس ہوا راستہ گم ہو گیا ہے، ناامیدی کے ساتھ آگے چل ہی رہے تھے کہ اچانک ایک چھوٹے سے گھر پر نظر پڑی، اس طوفان میں غنیمت جان کر نیچے اترا اور جا کر دروازہ بجا دیا۔ آواز آئی: جو کوئی بھی ہے اندر آ جاؤ دروازہ کھلا ہے۔
اندر ایک بڑھیا زمین پر جائےنماز بچھائے بیٹھی تھی ۔
اس نے کہا: ماں جی اجازت ہے میں آپ کا فون استعمال کر لوں؟
بڑھیا مسکرائی اور بولی: بیٹا کون سا فون؟ یہاں تو نہ بجلی ہے نہ فون! لیکن تم بیٹھو، سامنے چائے رکھی ہے پیالی میں ڈال کر پیو تھکن دور ہو جائے گی اور کھانے کو بھی کچھ نہ کچھ رکھا ہو گا ، کھا لو تاکہ آگلے سفر کے لیے بدن میں طاقت آئے۔
ڈاکٹر نے بڑھیا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پیالی میں چائی ڈالی اور پینے میں مشغول ہو گیا جبکہ کہ بڑھیا نماز و دعا میں مشغول تھی۔ اچانک بجلی کوندی تو ان کی نظر پڑی اس بڑھیا کی جا نماز کی بغل میں ایک بچہ کنبل میں لپٹا پڑا ہے جسے وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد ہلاتی جا رہی ہے۔ جب کافی دیر بعد بڑھیا نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تو ڈاکٹر نے کہا: میں آپ کے اس اخلاق اور لطف و کرم کا نہایت ھی مشکور ہوں، میرے لیے بھی دعا کیجیے ، آپ کے اخلاق حسنہ اس بات کی خبر دیتے ہیں کہ آپ کی دعا ضرور قبول ہو گی۔
بڑھیا بولی: نہیں بیٹا ایسی کوئی بات نہیں تم راہگیر ہو اور راہگیروں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم اللہ نے دیا ہے ۔ میں نے تمہارے لیے بھی دعا کی ہے، خدا کا شکر ہے کہ اس نے میری ہر دعا سنی ہے، بس ایک دعا کی قبولیت میں شاید ابھی کچھ دیر ھو
. ڈاکٹر نے پوچھا: کون سی دعا؟
بڑھیا بولی: یہ جو بچہ تمہاری آنکھوں کے سامنے ادھ موا پڑا ہے، میرا پوتا ہے، نہ اس کی ماں زندہ رہی نہ باپ، اس بڑھاپے میں اس کی ذمہ داری مجھ پر ہے، ڈاکٹر کہتے ہیں اسے کوئی موزی مرض ہے، جس کا وہ علاج نہیں کر سکتے، کہتے ہیں ایک ہی ڈاکٹر ہے بڑا نامی گرامی،!!!!!!! نام بتایا تھا اس کا۔۔۔! ہاں ذیشان ... وہ اس کا اپریشن کر سکتا ہے۔ لیکن میں بڑھیا کہاں اس تک پہنچ سکتی ہوں ؟ لے کر جاؤ بھی تو پتہ نہیں قبول کرے یا نہ کرے، میری تو خیر ہے یہ بچارہ بچہ خوار ہو جائے گا؛ بس اب اللہ سے ہی امید ہے کہ وہ میری مشکل آسان کر دے...!
ڈاکٹر کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے ہیں؛ وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولا: خدا کی قسم، آپ کی دعا نے ہوائی جہاز کو نیچے اتار لیا ، آسمان پر بجلیاں کوندوا دیں، مجھے رستہ بھو لوا دیا تاکہ میں یہاں تک کھینچا چلا آؤں، خدا کی قسم ، مجھے یقین نہیں آتا کہ خدا ایک دعا کو اس طرح قبول کر کے اپنے بندےکے لیے یوں اسباب فراہم کرتا ھے۔

حضرت نوح علیہ السلام اور ابلیس لعین

روایت ہے کہ جب حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کوہ جودی پر جا کر رکی تو تو ابلیس نے پانی پر بیٹھ کر حضرت نوح علیہ السلام سے کہا، اے نوح (علیہ السلام) تو نے بد دعا کر کے دنیا کو پانی میں غرق کر دیا۔ اب میرے لئے کیا حکم ہے؟ حضرت نوح علیہ السلام جواب دیا، اب تمہارا کام یہ ہے کہ خدا سے توبہ کرو اور خدا کے فرمانبردار بندے بن جاؤ ۔ ابلیس نے کہا کیا میری توبہ قبول ہو جائے گی؟ اگر قبول ہونے کی امید ہے تو آپ میرے حق میں سفارش فرما دیجیئے ۔ 

حضرت نوح علیہ السلام نے مناجات میں حق تعالٰی سے عرض کیا کہ ابلیس توبہ کی درخواست کرہا ہے، کیا حکم ہے ۔ حکم ہوا شیطان سے کہہ دو کہ اگر وہ آدم (علیہ السلام) کی قبر کو سجدہ کر لے تو توبہ قبول کر لی جائے گی ۔ حضرت نوح علیہ السلام نے خدا کا حکم ابلیس کو سنایا تو ابلیس نے جواب دیا، کہ میں نے زندہ آدم کو تو سجدہ نہیں کیا تھا، اب مرنے کے بعد ان کو کب سجدہ کرنے والا ہوں ۔ ابلیس نے کہا، چونکہ آپ نے خدا کی جانب میری سفارش کی تھی اس لئے شکریہ کے طور پر آپ سے تین باتیں عرض کرتا ہوں۔ 

١۔ جس وقت غصہ آئے مجھے یاد کر لیا کرو، غصہ کے وقت میں انسان کا چہرہ ، منہ ، ناک بن جاتا ہوں اور خون کی طرح رگ رگ میں دوڑتا پھرتا ہوں ۔ 

٢۔ لڑائی کے وقت بھی مجھے یاد کر لیا کرو ۔ اس موقع پر میں لوگوں کے دلوں میں بیوی بچے کا خیال ڈال دیتا ہوں ۔ 

۳۔ کسی نامحرم عورت کے ساتھ کبھی تخلیہ میں نہ بیٹھنا ۔ میں ایسے وقت نہ معلوم کیا کر گزرتا ہوں ۔ 

ایک روایت میں ہے کہ ابلیس نے حضرت نوح علیہ السلام سے کہا تھا، کہ حسد ، حرص نہ کرنا ۔ حسد کی وجہ سے میں اور حرص کی وجہ سے آدم علیہ السلام  جنت سے نکال دیئے گئے ۔ 

وہب بن منبہ کہتے ہیں کہ طوفان کے بعد جب حضرت نوح علیہ السلام کی قوم زمین پر آباد ہو گئی، تو ابلیس لعین نے حضرت نوح علیہ اسلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا ، آپ نے مجھ پر احسان عظیم فرمایا ہے، آپ کا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں۔ اس احسان کے بدلے میں آپ جو بات مجھ  سے دریافت فرمائیں گے، اس کا صحیح صحیح جواب دوں گا ۔ 

حضرت نوح علیہ السلام نے شیطان کی بات سن کر منہ پھیر لیا ۔ وحی آئی کہ اگر تمہیں کچھ پوچھنا ہو، ابلیس سے پوچھ لو، وہ تمہیں صحیح صحیح جواب دے گا ۔ نوح علیہ السلام نے ابلیس لعین سے پوچھا، یہ بتا دنیا میں تیرا یار و مدد گار کون ہے؟ ابلیس نے جواب دیا، میرے یار و مدد گار وہ لوگ ہیں جو بخل اور تکبر کرتے ہیں، اور ہر کام میں عجلت کے عادی ہیں ۔ 

حضرت نوح علیہ السلام نے فرمایا، تُو میرا کس بات پر شکریہ ادا کرنے آیا تھا، میں نے تجھ پر کیا احسان کیا ہے؟ تو شیطان نے جواب دیا، کہ آپ نے بد دعا کر کے ساری قوم غرق کرا دی۔ مجھے ان کی گمراہی کے فکر سے نجات مل گئی ۔ حضرت نوح علیہ السلام یہ سن کر بہت پشیمان ہوئے اور عجلت پسندی سے چار برس تک بارگاہِ الہٰی میں گریہ و زاری کرتے رہے۔۔۔۔

100 سال بعد

آج سے 100 سال بعد
مثال کے طور پر 2121 میں ہم سب اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ زیر زمین ہوں گے
اور اجنبی ہمارے گھروں میں رہیں گے
اور ہماری جائیداد غیر لوگوں کی ملکیت ہوگی
انہیں ہماری کچھ یاد بھی نہیں رہے گی ابھی بھی ہم میں سے کون اپنے دادا کے باپ کا سوچے گا .. ہم اپنی نسلوں کی یاد میں تاریخ  کا حصه بن جائیں گے، جبکہ لوگ ہمارے نام اور شکلیں بھول جائیں گی.. 
سو سال میں کئی  اندھیرے اور ٹھہراؤ آئیں گے
تب ہمیں اندازہ ہوگا کہ دنیا کتنی معمولی تھی، اور سب کچھ اور دوسرے سے زیادہ پا لینے کے خواب کتنے نادان اور خسارے کی سوچ کے حامل تھے،
اور ہم چاہیں گے کہ اگر ہم اپنی ساری زندگی نیکیاں سمیٹتے اور نیکیاں کرتے ہوئے گزاریں تو وه موقع آج ھمارے پاس خوش قسمتی سے موجود ھے.. جب تک ہم باقی ہیں۔۔
 ابھی زندگی باقی ہے ۔۔
غور کریں اور بدلیں.. 
اے اللہ ہمیں ہدایت دے..
اے اللہ ہمارا انجام اچھا کر..

ایک عِبادت گُزار خادِمہ

بصرہ کے قاضی عبیداللّہ بِن حسن رحمة اللّہ علیہ سے منقول ہے کہ: میرے پاس ایک حسِین و جمیل عجمی لونڈی تھی۔ اس کے حُسن و جمال نے مجھے حیرت میں ڈال رکھا تھا۔

ایک رات وہ سو رہی تھی۔ جب رات گئے میری آنکھ کُھلی تو اسے بِستر پر نہ پا کر میں نے کہا: " یہ تو بہت بُرا ہُوا۔ " پِھر میں اسے ڈھونڈنے کے لئے جانے لگا تو دیکھا کہ وہ اپنے پروردِگار عزوَجل کی عِبادت میں مشغول ہے۔

اس کی نُورانی پیشانی اللّہ سبحان و تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز تھی۔ وہ اپنی پُرسوز آواز سے بارگاہِ خداوندی میں اِس طرح عرض گُزار تھی:
" اے میرے خالق! تجھے مجھ سے جو محبّت ہے اسی کا واسطہ دے کر اِلتجا کرتی ہوں کہ تُو میری مغفِرت فرما دے۔ "
جب میں نے یہ سُنا تو کہا اِس طرح نہ کہہ بلکہ یوں کہہ:" اے مولیٰ عزوَجل! تجھے اس محبّت کا واسطہ جو مجھے تُجھ سے ہے، تُو میری مغفِرت فرما دے۔ "

یہ سُن کر وہ عابِدہ و زاہِدہ لونڈی جو حقیقت میں ملکہ بننے کے لائق تھی کہنے لگی:
" اے غافل شخص! اللّہ عزوَجل کو مجھ سے محبّت ہے اِسی لئے تو اس کریم پروردِگار عزوَجل نے مجھے شِرک کی اندھیری وادیوں سے نِکال کر اِسلام کے نُور بار شہر میں داخل کِیا۔ اس کی محبّت ہی تو ہے کہ اس نے اپنی یاد میں میری آنکھوں کو جگایا اور تجھے سُلائے رکھا۔ اگر اسے مجھ سے محبّت نہ ہوتی تو وہ مجھے اپنی بارگاہ میں حاضری کی ہرگِز اِجازت نہ دیتا۔ "

قاضی عبیداللّہ بِن حَسن رحمة اللّہ علیہ کہتے ہیں: میں اس کے حُسن و جمال اور چہرے کی نُورانیت سے پہلے ہی بہت متاثر تھا، اب اس کی یہ عارِفانہ گُفتگُو سُنی تو میری حیرانگی میں مزید اضافہ ہُوا اور میں سمجھ گیا کہ یہ اللّہ عزوَجل کی ولِیہ ہے۔ میں نے کہا: اے اللّہ سبحان و تعالیٰ کی نیک بندّی! جا تُو اللّہ سبحان و تعالیٰ کی رضا کے لئے آزاد ہے۔ جب لونڈی نے سُنا تو کہا: میرے آقا! یہ آپ نے اچھا نہیں کِیا کہ مجھے آزاد کر دیا۔ اب تک مجھے دوہرا اجر مِل رہا تھا (یعنی ایک آپ کی اطاعت کا اور دوسرا اللّہ عزوَجل کی اطاعت کا ) لیکن اب آزادی کے بعد مجھے صرف ایک اجر مِلے گا۔

سرخ چوڑیاں

مکان کے اُوپر والی سٹوری بنوا رها هوں _مزدوری کا تمام کام ٹهیکے پر دیا _ ٹهیکیدار صاحب آگے ٹهیکہ دے کر چھ سو روپیہ فی هزار چهت پر اینٹیں چڑهوا رها تها _
مزدور آیا
💞فی پهیرا بیس اینٹیں اٹهاتا _ سیڑهی کے اُنیس سٹیپ چڑهتا اور اِس طرح اُس نے دو گهنٹے میں ایک هزار اینٹ چهت پر پہنچا دی _ تب تک بارش شروع هو گئ  تو سلپ هونے کے خطرے سے مزدور نے کام روک دیا
💞 ٹهیکیدار سے چھ سو روپیہ لے کر جانے لگا تو میں نے کہا کہ کهانا کها کر جانا _ وه بولا کے سر جی ,  ساتھ هی چوک میں منگل بازار لگا هوا , گهر کے لیے سودا لے آؤں تو آ کر روٹی کهاتا هوں
 واپس آیا تو اُس کے هاتھ میں بهرا هوا ایک  شاپر تها _ میں نے پوچها کہ کیا میں دیکھ سکتا هوں کے تم نے کیا شاپنگ کی , تو تهوڑا هچکچا کر بولا کہ جی ضرور دیکھ لیں _ !
میں بہت پیار کے ساتھ شاپر میں سے ایک ایک آئٹم نکال کر دیکهنے لگ گیا ___ شاپر میں کیا تها _ ؟
پاؤ والا گهی کا پیکٹ , اتنی هی چینی  _ چهوٹا پیک چائے کی پتی _ آدها کلو مٹر , چار پانچ آلو , تین عدد پیاز , چهوٹا پیکٹ نمک , تهوڑی سی سرخ مرچیں , ایک ٹکیا دیسی صابن ,  سگریٹ کی ڈبی _  پلاسٹک کا ایک چهوٹا سا گهوڑا , زیرو سائز کی چھ عدد سرخ چوڑیاں , دو گولیاں پینا ڈول اور ایک پیکٹ نسوار _
پوچها کہ گهر میں هانڈی روٹی کرنے کیلئے جلاؤ گے کیا  _ ؟  تو بولا کہ جاتے هوئے پانچ کلو لکڑی اور دو کلو آٹا  لے کر جاؤں گا _ همسائے میں هی لکڑی کا ٹال اور آٹا چکی هے _
پهر پوچها کہ اب بارش میں گهر کیسے جاؤ گے اور تمہارا گهر یہاں سے کتنا دور هے _ تو بولا کہ آٹھ کلو میٹر دور  گهر هے  میرا _ پیدل جاؤنگا اور یا کسی بائک والے سے لفٹ لے لوں گا
💞 آخری سوال کیا کہ پلاسٹک کا گهوڑا اور چوڑیاں کتنے کی ملیں اور اِنکا کیا کرو گے  _ ؟  تو بولا کہ دونوں چیزیں پانچ پانچ روپے کی ملیں _ گهوڑا میرے ڈیڑھ سالہ شہزادے کے لئے اور چوڑیاں میری ایک ماه کی شہزادی کیلئے _ شہزادی کو سرخ چوڑیاں بہت سجیں گی _
شاپر میں اُس محنت کش کی پوری دنیا تهی..

Tuesday, March 16, 2021

موسیقی غذا نہیں سزا......

*✰﷽✰*

موسیقی کو روح کی غذا کہنے والے میت  کے سراہنے گانے بجانے سے پرہیز کیوں کرتے ہیں۔؟ ایک وہی تو وقت ہوتا ہے جب روح کو  سکون کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔

موسیقی روح کی غذا نہیں روح کی سزا ہے، دنیا میں بھی آخرت میں بھی۔

ابھی اللّٰہ پاک نے آپ کو اختیار دیا ہے، اگر آپ خود سے پیار کرتے ہیں تو  اپنی  رُوح  کو اِس دُنیا کی زندگی میں اور اُس آخرت کی زندگی میں دردناک عذاب سے  بچانے  کے لیے  آج ہی سے میوزک اور گانوں سے توبہ کر لیں۔

توبہ کرنے سے انسان ایسے ہو جاتا ہے جیسے اُس نے کبھی گُناہ کیا ہی نہیں، تو یہ  چانس بس تب تک ہے جب تک سانس ہے۔ اُس کے بعد صرف دردناک عذاب  ہو گا  اور  پچھتاوا  رہ جائے گا۔

عقلمند میاں بیوی

👫 عقلمند میاں بیوی اپنی اَنا کو چھوڑ کر معافی مانگنے میں پہل کرتے ہیں جبکہ بیوقوف میاں بیوی اَنا پرستی میں گھر تباہ کر لیتے ہیں

👫 عقلمند میاں بیوی ایک دوسرے پر ہر وقت اپنی مرضی مسلط نہیں کرتے بلکہ ایک دوسرے کی پسند ناپسند کا احترام کرتے ہیں جبکہ بیوقوف میاں بیوی ایک دوسرے کو کنٹرول کرنے کی کوشش میں رشتہ تباہ کر لیتے ہیں

👫 عقلمند میاں بیوی تمام دنیا کے مقابلے میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں جبکہ بیوقوف میاں بیوی دوسروں کو ایک دوسرے پر ترجیح دیتے ہیں

👫 عقلمند میاں بیوی کا ایک دوسرے پہ یقینی اعتماد ہوتا ہے جو کسی اپنے یا غیر کی وجہ سے نہیں ٹوٹتا جبکہ بیوقوف میاں بیوی کو اپنے سے زیادہ دوسروں پر اعتماد ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ اپنے رشتے خراب کر بیٹھتے ہیں

👫 عقلمند میاں بیوی اتحاد میں ایک اور ایک گیارہ ہوتے ہیں جبکہ بیوقوف میاں بیوی بات بات پر جھگڑ کر تنہا رہ جاتے ہیں

👨‍👨‍👦‍👦 عقلمند میاں بیوی ایسی زندگی گزارتے ہیں جو ان کی اولاد کے لئے مثال ہو جبکہ بیوقوف میاں بیوی آپس کے جھگڑوں اور بدسلوکیوں سے اولاد کو بھی تباہی کے راستے پر ڈال دیتے ہیں

Monday, March 15, 2021

آزادی


بھیڑیوں نے بکریوں کے حق میں جلوس نکالا کہ بکریوں کو آزادی دو بکریوں کے حقوق مارے جا رہے ہیں انہیں گھروں میں قید کر رکھا گیا ہے ایک بکری نے جب یہ آواز سنی تو دوسری بکریوں سے کہا کہ سنو سنو ہمارے حق میں جلوس نکالے جا رہے ہیں چلو ہم بھی نکلتے ہیں اور اپنے حقوق کی آواز اٹھاتے ہیں
ایک بوڑھی بکری بولی بیٹی ہوش کے ناخن لو یہ بھیڑئے ہمارے دشمن ہیں ان کی باتوں میں مت آو
مگر نوجوان بکریوں نے اس کی بات نہ مانی کہ جی آپ کا زمانہ اور تھا یہ جدید دور ہے اب کوئی کسی کے حقوق نہیں چھین سکتا یہ بھیڑئے ہمارے دشمن کیسے یہ تو ہمارے حقوق کی بات کر رہے ہیں
بوڑھی بکری سن کر بولی بیٹا یہ تمہیں برباد کرنا چاہتے ہیں ابھی تم محفوظ ہو اگر ان کی باتوں میں آگئی تو یہ تمہیں چیر پھاڑ کر رکھ دیں گے
بوڑھی بکری کی یہ بات سن کر جوان بکری غصے میں آگئی اور کہنے لگی کہ اماں تم تو بوڑھی ہوچکی اب ہمیں ہماری زندگی جینے دو تمہیں کیا پتہ آزادی کیا ہوتی ہے باہر خوبصورت کھیت ہونگے ہرے بھرے باغ ہونگے ہر طرف ہریالی ہوگی خوشیاں ہی خوشیاں ہونگی تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو اب ہم مزید یہ قید برداشت نہیں کرسکتیں یہ کہ کر سب آزادی آزادی کے نعرے لگانے لگیں اور بھوک ہڑتال کردی ریوڑ کے مالک نے جب یہ صورتحال دیکھی تو مجبورا انہیں کھول کر آزاد کردیا بکریاں بہت خوش ہوئیں اور نعرے لگاتی چھلانگیں مارتی نکل بھاگیں 
مگر یہ کیا؟؟؟؟ بھیڑئیوں نے تو ان پر حملہ کردیا اور معصوم بکریوں کو چیر پھاڑ کر رکھ دیا
آج عورتوں کے حقوق کی بات کرنے والے درحقیقت عورتوں تک پہنچنے کی آزادی چاہ رہے ہیں یہ ان معصوموں کے خون کے پیاسے ہیں انہیں عورتوں کے حقوق کی نہیں اپنی غلیظ پیاس کی فکر ہے کاش کہ کوئی سمجھے!!!!!!

Saturday, March 13, 2021

شاپنگ بیگ

از: اشتیاق احمد
میں پریشان تھا کہ آخر اس کو اپنا شاپنگ بیگ یاد کیوں نہیں آیا….؟
___________________________________
گاہک کے دکان سے چلے جانے کے بعد میری نظر اس شاپنگ بیگ پر پڑی۔ میں فوراً اٹھ کر دکان سے نکل آیا۔ دائیں بائیں دور تک نظریں دوڑائیں، لیکن وہ گاہک کہیں نظر نہ آیا۔ اب تو میں گھبرا گیا۔ میں نے جلدی سے اس شاپر کو ٹٹولا اس میں کچھ کپڑے ٹھونسے گئے تھے۔ ان کپڑوں کو جلدی جلدی باہر نکال کر بنچ پر رکھا…. اور پھر میرا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ ان کپڑوں میں سونے کے زیورات لپیٹ کر رکھے گئے تھے۔ میں نے جلدی سے وہ کپڑے جوں کے توں اس شاپنگ بیگ میں ٹھونس دیے اور بیگ کو دکان کے سیف میں رکھ دیا۔
اب یہ اطمینان تو ہو چکا تھا کہ اس میں کوئی دھماکا خیز مواد نہیں ہے…. بس سونے کے زیورات ہیں اور ظاہر ہے…. کوئی دم میں زیورات کا مالک واپس آنے والا ہوگا…. لہٰذا میں مطمئن ہو کر بیٹھ گیا…. پھر جوں جوں وقت گزرنے لگا، پریشانی ایک بار پھر مجھے اپنے حصار میں لینے لگی۔ میں سوچ رہا تھاکہ آخر اس شخص کو اپنا شاپنگ بیگ اب تک کیوں یاد نہیں آیا۔ وہ تو عام چیزوں کا بیگ تو تھا نہیں…. اس میں تو سونے کے زیورات تھے اور میرے اندازے کے مطابق زیورات اتنے کم نہیں تھے۔ کم از کم دس تولے کے تو ضرور تھے…. اور آج کل دس تولے سونے کی قیمت تین ساڑھے تین لاکھ بنتی ہے وہ شخص اتنی بڑی رقم کی چیز کیسے بھول گیا۔
وہ دن اس الجھن میں گزر گیا۔ دوسرے دن بھی وہ گاہک نہ آیا…. اب تو میری الجھن حد درجے بڑھ گئی…. سب سے بڑی الجھن یہ تھی کہ اسے اب تک اپنے زیورات کیوں یاد نہیں آئے۔ وہ انہیں بھول کیسے گیا؟
تیسرا دن بھی گزر گیا…. پھر تو دن ایک ایک کرکے گزرتے چلے گئے…. میری الجھن کا کیا پوچھنا، بڑھتی ہی چلی جا رہی تھی…. آخر میں نے ایک عالم دین سے اس بارے میں پوچھا کہ مجھے کیا کرنا چاہیے…. انہیں میں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ معاملہ ایک بڑی رقم کا ہے۔ انہوں نے کہا۔
"ایک ماہ تک انتظار کریں، رقم کا مالک نہ آئے تو اس کی طرف سے صدقہ کردیں۔"اب میں نے ان سے پوچھا۔
"اور اگر نقدی زیادہ ہو…. ہو سکتا ہے…. وہ اس رقم سے اپنی بیٹی کا زیور خریدنے نکلا ہو اور میری دکان سے نکلنے کے بعد اس کے ساتھ کوئی حادثہ ہو گیا…. اور کچھ مدت بعد وہ مر جائے…. اس صورت میں کیا ہوگا؟ "
اس کے جواب میں عالم دین نے کہا۔
" صورت حال اگر یہ ہے تو ابھی آپ اس امانت کو جوں کا توں رکھیں۔"
مجھے یہ بات پسند آئی۔ میں نے اس شاپر کو اپنے سیف کے ایک خفیہ خانے میں رکھ دیا…. دن گزرتے چلے گئے…. یہاں تک کہ تین سال بعد ایک پریشان حال شخص میری دکان میں داخل ہوا…. وہ کافی دیر تک میری طرف دیکھتا رہا۔ میں سمجھ نہ سکا کہ وہ مجھے اس طرح کیوں دیکھ رہا ہے…. آخر مجھ سے رہا نہ گیا۔ میں نے کہا۔

" آپ میری طرف اس طرح کیوں دیکھ رہے ہیں؟"
"تین سال پہلے کا ایک دن یا د کرانے چلا ہوں…. میں یہاں آیا تھا…. کچھ کپڑا دیکھا تھا، پسند نہیں آیا تھا۔ اس لیے کچھ خریدے بغیر دکان سے نکل گیا تھا…. اور میں اپنا شاپنگ بیگ یہیں چھوڑ گیا تھا…." یہاں تک کہہ کر وہ خاموش ہو گیا….
اب میں نے اس کی طرف غور سے دیکھا…. دیکھتا چلا گیا۔ پھر بولا۔
" اس میں کیا تھا….؟"
"سونے کے زیورات تھے۔" وہ بولا۔
" اور آپ فوری طور پر واپس کیوں نہ آئے…. سونے کے زیورات کو آپ بھول کیسے گئے۔"
" اس لیے کہ اس وقت مجھے معلوم نہیں تھا کہ جو شاپنگ بیگ میں آپ کی دکان پر چھوڑ آیا ہوں…. اس میں زیورات ہیں۔"
" کیا مطلب؟ " میں حیرت زدہ رہ گیا، کیونکہ یہ اس نے ایک اور عجیب بات کہہ دی تھی۔
" ہاں ! یہی بات ہے…. مجھے معلوم نہیں تھا…. دراصل وہ بیگ میرا نہیں تھا۔ کسی سے بدل گیا تھا۔ آپ کی دکان سے پہلے میں ایک اور دکان پر کپڑا دیکھنے کے لیے گیا تھا…. وہاں میں جس گاہک کے ساتھ بیٹھا اس کے پاس بھی ویسا ہی شاپنگ بیگ تھا…. لیکن اس وقت نہ اس نے اس بات کی طرف دھیان دیا، نہ میں نے…. میں اس سے پہلے دکان سے نکل آیا اور آپ کی دکان میں آگیا۔ جب کہ جس کا وہ بیگ تھا، وہ اس دکان میں کافی دیر رکا رہا…. پھر وہ میرا والا بیگ اٹھا کر چلا گیا…. اسے یہ بات اپنے گھر جا کر معلوم ہوئی…. اب تو وہ سر پیٹ کر رہ گیا…. اور میں آپ کے پاس اس لیے نہیں آیا کہ میرے بیگ میں بے کار اور پرانے کپڑے تھے…. اور گاؤں سے آنا میرے لیے مشکل تھا…. لہٰذا میں نے اس بیگ کو سر سے جھٹک دیا، جب کہ زیورات کا مالک پاگلوں کی طرح اپنا بیگ تلاش کرتا رہا۔ سب سے پہلے وہ اس دکان پر گیا۔ جس میں وہ اور میں جمع ہو گئے تھے۔ دکان دار نے اسے بتایا کہ اسے کوئی بیگ نہیں ملا۔ اب وہ بے چارہ کیا کہتا…. وہاں سے بے یقینی کے عالم میں گھر آگیا۔ جو بیگ وہ غلطی سے لے آیا تھا، اس نے اس کی چیزوں کو دیکھا۔ اس میں صرف پرانے کپڑے تھے۔ اس نے جان لیا کہ دراصل اس کا بیگ بدل گیا ہے…. اور ایسا بھول میں ہوا ہے۔ اب اس نے اخبارات میں اشتہارات شروع کیے…. لوگوں سے ذکر کرتا رہا…. کرتا رہا آخر اس کا یہ ذکر مجھ تک پہنچ گیا…. میں تو اپنے بیگ کو قریب قریب بھول ہی گیا تھا، کیونکہ اس میں تو کوئی خاص چیز تھی نہیں…. لیکن یہ ساری کہانی سن کر مجھے یاد آگیا۔ میں تو تین سال پہلے اپنا شاپنگ بیگ ایک دکان پر بھول آیا تھا…. کہیں وہ بیگ اس بے چارے کا تو نہیں تھا۔ بس اس خیال کا آنا تھا کہ میں سیدھا یہاں چلا آیا۔ ابھی میں اس سے نہیں ملا ہوں…. کیونکہ پہلے میں یقین کر لینا چاہتا ہوں کہ ایسا ہوا ہے، پھر آپ کے بارے میں بھی تو طرح طرح کے خیالات آتے رہے ہیں۔ یہ کہ بھلا آج کل اتنے دیانت دار لوگ کہاں ملتے ہیں۔ میرا مطلب یہ کہ امید نہیں تھی …. لیکن پھر بھی چلا آیا کہ کیا خبر …. میں اسے یہ خوشی دے سکوں۔"
اس کے خاموش ہونے پر میں بولے بغیر اٹھا اور سیف میں سے بیگ نکال کر اس کے آگے رکھ دیا۔ اس کی حیرت قابل دید تھی…. اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا…. پھر وہ اٹھا اور بے اختیار مجھ سے لپٹ گیا۔ کتنی ہی دیر وہ میری دیانتداری پر تبصرہ کرتا رہا۔ پھر اس نے کہا۔

" اب مجھے یہ امانت اس تک پہنچا نی ہے…. جو اس کے لیے تین سال سے دربدر پھر رہا ہے۔"
" میری خواہش ہے…. میں بھی آپ کے ساتھ چلوں۔"
"ہاں ہاں ! کیوں نہیں…. آپ تو اس معاملے میں برابر کے شریک ہیں…. اور یہ آپ ہی کی ذات ہے…. جس کی وجہ سے آج ہم یہ زیورات دینے کے قابل ہیں…. شوق سے چلیے۔"
میں نے دکان بند کی اور اس کے ساتھ چل پڑا…. کئی گھنٹوں کے سفر کے بعد ہم اس گاؤں میں پہنچے اور پھر اس کے گھر کے دروازے پر دستک دیتے ہوئے ہمارے دل دھک دھک کررہے تھے۔ ہم سوچ رہے تھے…. ہم جو اسے یہ خوشی دے رہے ہیں ۔ وہ اسے سنبھال بھی پائے گا یا نہیں…. آخر دروازہ کھلا…. وہ باہر نکلا۔ وہ برسوں کا بیمار لگ رہا تھا…. ایک مسلسل تلاش نے اسے گویا ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا دیا تھا۔ حسرت اور یاس نے اس کے چہرے پر ڈیرہ جمالیا تھا…. اس نے ہم دونوں کے چہروں پر ایک نظر ڈالی …. پھر بولا۔
"فرمائیے! آپ کون ہیں…. مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟"
" آپ کی تلاش کامیاب ہو گئی …. آج ہم آپ کی امانت آپ کی لوٹا رہے ہیں…. یہ ہیں آپ کے زیورات۔"
یہ کہتے ہوئے میں نے اس کا بیگ اس کی آنکھوں کے سامنے کر دیا…. وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا شاید اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔
" کیا…. کیا واقعی…. اس میں میری بچی کے زیورات ہیں۔"
" ہاں بابا…." ہم دونوں بولے۔
اس نے پاگلوں کے سے انداز میں بیگ جھپٹ لیا ، پھر اسے الٹ دیا…. اور کپڑوں سے نکلنے والے زیورات کو تک کرپھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا۔ پھر اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے…. اس کا رونا ہم سے دیکھانہ گیااور ہم بھی اس کے ساتھ رونے لگے…. یہ رونا اس قدر خوشی کا رونا تھا کہ روکے نہیں رک رہا تھا…. ہمیں ایک بے پایاں خوشی ملی تھی…. یہ خوشی ان آنسوؤں کے بغیر نظر آہی نہیں سکتی تھی۔